بھٹکل یکم مارچ(ایس او نیوز) بھٹکل کے نڈر اور معروف کنڑا صحافی رگھویندرا بھٹ آج بدھ صبح اچانک دل کا دورہ پڑھنے سے چل بسے۔ ان کی عمر 52 سال تھی۔
کرناٹک کے معروف کنڑا روزنامہ پرجاوانی کے لئے انہوں نے قریب 15 سالوں تک رپورٹنگ کی، قریب پانچ سال تک وہ ساحل آن لائن دفتر میں ہی بیٹھ کر پرجاوانی کے لئے رپورٹنگ کرتے تھے۔ وہ ضلع اُترکنڑا سے شائع ہونے والے کنڑا روزنامہ جنامادھیما اور جنانترنگ اخبار کے لئے بھی رپورٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ساحل آن لائن سے قریب ہونے کی بنا پر وہ کئی بار مسلمانوں کے مسائل اپنے اخبار میں اُٹھاچکے ہیں جبکہ مسلم اداروں کے تعلق سے بھی کئی پوزیٹیو رپورٹنگ کرچکے ہیں۔
قریب بیس دن پہلے ان کو پہلا ہارٹ اٹیک ہوا تھا، انہیں فوری بھٹکل سرکاری اسپتال لے جاکر چیک آپ کیا گیا تھا، وہیں پتہ چلا تھا کہ وہ امراض قلب میں مبتلا ہیں ، لہٰذا مقامی ڈاکٹروں نے فوری طور پر انہیں منی پال یا مینگلور جانے کی صلاح دی تھی، مگر وہ منی پال یا مینگلور کے بجائے شموگہ جاکر اپنی جانچ کرائی تھی، مگر شموگہ میں جانچ کرانے پر ڈاکٹر نے انہیں بتایا تھا کہ انہیں دل کی کوئی تکلیف نہیں ہے، غالباً گیس کی وجہ سے کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔ اس بنا پر رگھویندرا بھٹ نے بھٹکل کے ڈاکٹر کی دی ہوئی رپورٹ پر بھروسہ نہیں کیا۔
پتہ چلا ہے کہ دو ۔ روز قبل بھٹ کو سینہ میں تکلیف کی شکایت ہوئی تو وہ واپس پھر ایک بار بھٹکل سرکاری اسپتال پہنچے، تو ڈاکٹر نے پھر ایک بار انہیں منی پال یا مینگلور جاکر چیک آپ کرنے کی صلاح دی، مگر بھٹ نے اسے ہلکے میں لیا۔
چونکہ ان کے والدین اور ایک بہن شیموگہ میں رہائش پذیر ہیں،غالباً صحت ٹھیک نہ ہونے کی بناء پر اُن سے ملنے وہ منگل دوپہر کو شیموگہ چلے گئے تھے، بظاہر وہ صحت مند لگ رہے تھے، مگر بتایا گیا ہے کہ آج بدھ صبح قریب 8:30 بجے پھر ایک بار ہارٹ اٹیک ہوا، انہیں فوری قریبی اسپتال لے جایا گیا، مگر اسپتال پہنچنے تک ان کی موت واقع ہوگئی۔
کرائم نیوز بنانے میں ماہر رگھویندرا بھٹ، قریب 28 سالوں سے میڈیا کے میدان میں متحرک تھے۔بھٹکل میں پریس اسوسی ایشن قائم کرنے سمیت کنڑا ساہتیہ پریشد کی بنیاد ڈالنے میں بھی وہ پیش پیش تھے۔ بدھ دوپہر قریب ایک بجے شموگہ میں ہی ان کی آخری رسومات ادا کی گئی۔
ان کی اچانک موت سے پوری صحافی برادری میں غم کی لہر دوڑ گئی، سرکیوٹ ہاوس میں فوری طور پرمقامی صحافیوں کی جانب سے ایک تعزیتی اجلاس بھی منعقد کیا گیا اور ان کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کی سراہنا کی گئی۔ بھٹکل کے متعدد لیڈران نے بھی ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔